Official website of Abrar Ahmed Shahi | Free delivery for order over Rs 999/-

al-Mahajja al-Baydaa | Arabic + Urdu | رسول اللہ کی نماز اور اختلاف امت

Arabic + Urdu

Rs 4500.00Rs 3250.00

Out of stock

شیخ اکبر محیی الدین محمد ابن العربی نے یہ کتاب سن 599 ہجری میں شہر مکہ میں اپنے قیام کے دوران حرم مکی میں لکھی، اور یہ آپ کا اِس مقدس زمین کا پہلا سفر حج تھا، اُس وقت آپ کی عمر 39 برس تھی، اس دور میں آپ اپنے فن اور ذہنی صلاحیتوں کے عروج پر تھے۔ اِس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے سن 600 ہجری کے اوائل میں اسے مکمل کیا، جیسا کہ اس کے صفحہ اختتام پر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اس کتاب کی دوسری جلد ہے، یہ جلد نماز کے ابواب کا احاطہ کرتی ہے۔ شیخ نے اس کی پہلی جلد کو طہارت سے مخصوص کیا۔ اور اس دوسرے جلد کے بعد نماز کے ابواب کو مکمل کرتے ہوئے تیسری جلد لکھنا شروع کی۔ آج ہمیں اس کتاب کی کل جلدوں کی تعداد تک معلوم نہیں، کیونکہ اِن میں سے صرف دوسری جلد ہی ہم تک پہنچی ہے، میرے علم کے مطابق باقی جلدیں حوادث زمانہ کی نظر ہو گئیں۔

اِس دوسری جلد کا مواد اِس کے مصنف کے وسیع افق اور فقہ و حدیث کے علوم پر گہری گرفت کا عکاس ہے۔ اور یہ سب ان راستوں میں واضح ہے جن پر شیخ محو سفر رہے، آپ نے اِس مجال کے بزرگوں کی تصانیف پر گہری نظر ڈالی ہے۔ جیسا کہ آپ حدیث نبوی سے استشہاد کے بھی حریص نظر آتے ہیں۔آپ انہیں اِن کے ذرائع سے حرف بہ حرف نقل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں نے بھی اِس رجحان کی پیروی کی، آپ کی مرضی کا احترام کیا، اور مراجع میں احادیث کے حوالہ جات کو بالتفصیل لکھا، جہاں کہیں لفظی اختلاف پایا اُس کی وضاحت کی۔ آپ اس بات کے بھی حریص نظر آئے کہ متقدمین آئمہ کی آرا ادب کے دائرے میں ڈسکس کی جائیں۔

کتاب “المحجۃ البیضاء فی الاحکام الشرعیہ والآداب الدینیہ” (سفرِ ثانی) شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی وہ نایاب تالیف ہے جو فقہ، حدیث اور تصوف کا ایک حسین امتزاج ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک بہترین رہنما ہے جو فقہی جمود اور مسلکی تعصب سے ہٹ کر براہِ راست احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں نماز کے طریقے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

آپ کے سوالات کے تناظر میں اس کتاب کا تعارف اور مندرجات کا تجزیہ درج ذیل ہے:

1. کتاب کا تعارف اور منہج:

یہ کتاب شیخ ابن العربی نے 599 ہجری میں مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران تحریر کی۔ اس کا بنیادی مقصد فقہی اختلافات (جو کہ صحابہ اور تابعین کے دور سے چلے آ رہے ہیں) کا احاطہ کرنا اور پھر “درست احادیث” کی بنیاد پر راجح قول کا انتخاب کرنا ہے۔

شیخ کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ کسی خاص مسلک (جیسے حنفی، شافعی یا مالکی) کی اندھی تقلید نہیں کرتے بلکہ وہ محدثانہ اور ظاہری اسلوب اپناتے ہیں۔ وہ ہر مسئلہ میں صحابہ (جیسے ابن عمر، ابن مسعود، علی رضی اللہ عنہم) اور ائمہ (مالک، شافعی، ثوری، اصحاب الرائے) کے اقوال نقل کرتے ہیں اور پھر حدیث کی سند اور متن کی جانچ پڑتال کر کے فیصلہ سناتے ہیں۔

یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ نماز کے مسائل میں اختلاف کوئی نئی چیز نہیں بلکہ صحابہ کے دور سے ہے، لیکن “المحجۃ البیضاء” کا کمال یہ ہے کہ یہ ہمیں اندھی تقلید سے نکال کر صحیح احادیث کی طرف لاتی ہے۔

یہ کتاب فقہی جمود کو توڑتی ہے اور نماز کو اس طرح ادا کرنے کی دعوت دیتی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ (ظاہری اور باطنی) طریقہ ہے۔ شیخ کا انداز یہ ہے کہ وہ حدیث کو فقہی رائے پر مقدم رکھتے ہیں۔